بھٹکل:۸/ستمبر (ایس او نیوز)ملک بھر میں ہوئے بم دھماکوں میں ملوث بتاکراور انڈین مجاہدین کا ماسٹرمائنڈ قرار دے کرگرفتار ہوکر جیل میں بند احمد سدی باپا (عرف یاسین بھٹکل) کے تعلق سے اُن کے بھائی عبدالصمد نے پورے یقین کے ساتھ بتایا ہے کہ وہ ایک دو مہینوں کے اندر بے قصور ثابت ہوکر باہرآئے گا۔
جمعرات کو ایک انگریزی میگزین کے نمائندے سے گفتگوکرتے ہوئے عبدالصمد سدی باپا نے بتایا کہ ان کے بھائی کے خلاف جتنے مقدمات درج کئے گئے تھے ان میں تقریبا ً تمام مقدمات میں وہ بے قصور ثابت ہوچکا ہے، حیدرآباد میں ہوئےدھماکے کا ایک معاملہ باقی ہے، جس کی سنوائی آخری مرحلے میں ہے، عبدالصمد کے مطابق اُس معاملے کو بھی لے کر جانچ افسران کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عبدالصمد نے بتایا کہ اُن کے بھائی کے خلاف جھوٹی کہانیاں گھڑ کر جرائم معاملات میں پھنسایا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں جیل سے احمد کو آئسیس کے ذریعے اغواء کئے جانے کی خبر پھیلائی گئی تھی۔ اس تعلق سے انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ ماسٹر مائنڈ قرار دے کر گرفتار کیا گیا شخص بے قصور ثابت ہوکر رہا ہونے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے پولس والوں نے ہی ایسی باتیں پھیلائی ہیں تاکہ اس کا انکاونٹر کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ابھی بھی احمد کے تعلق سے فکرمند ہیں کہ کہیں پولس اس کا انکاونٹر نہ کردیں کیونکہ اُس کا بے قصور ثابت ہوکر باہر آنا طے ہے۔
اپنے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے عبدالصمد نے بتایا کہ پونا جرمن بیکری بم دھماکوں کے نام پر جب مینگلور ائرپورٹ پر مجھے گرفتار کرکے خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعےممبئی لے جایا گیا تو پولس نے اس پر ظلم کی انتہا کردی تھی، پوری رات الیکٹرک شاک دیا جاتا تھا اور دن بھر پیٹائی ہوتی تھی۔ مجھے اس قدر اذیت دی گئی کہ کئی ماہ تک اُس کا آثر تھا ۔
ماں اور بہن پاسپورٹ سے محروم: عبدالصمد سدی باپا نے بتایا کہ ان کی والدہ اور ان کی بہن نے کچھ ماہ قبل حج جانے کے ارادے سے پاسپورٹ کی درخواست دی تھی، اس ضمن میں پولس انکوائری کے نام پرشناختی کارڈ، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، اسکول سرٹی فیکٹ، پیدائشی سرٹی فیکٹ، رہائشی سرٹی فیکٹ سب کچھ مقامی پولس نے دینے کے لئے کہا اور ہم نے سب کچھ دیا، اس کے بائوجود ان دونوں کا پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس بنیاد پر ماں اور بہن کو پاسپورٹ سے محروم کیاجارہا ہے ؟